آیا صوفیا : تہذیبی تسلسل کا استعارہ

AyaSofiaByKamranRafi

کامران رفیع

  آیا صوفیا کی زبان زد عام تاریخ کچھ یوں ہے کہ سب سے پہلے شہنشاہ جسٹنین نے 537 میں چرچ تعمیر کروایا پھر 1453 میں سلطان محمد فاتح نے اسے چرچ سے مسجد میں تبدیل کردیا ، پھر سلطنت عثمانیہ کے بعد 1935 میں اتاترک نے اسے میوزیم بنایا اور اب پھر اردگان نے اسے دوبارہ مسجد میں تبدیل کردیا ہے۔بلا شبہ یہ تاریخی سچ پے مگر بلاشبہ یہ ادھورا سچ اور ادھوری تاریخ ہے جس کا مرکزی نکتہ نظر دو مذاہب کی کشمکش کے گرد گھومتا ہے۔آیا صوفیا اور اس سے متعلق تاریخ  اس دوفریقی کشمکش سے کہیں وسیع اور گہری ہے۔

آیا صوفیا پر ہونے والی بحث عموما ترک یونان یا مسلم عیسائی کشمکش کے دائرے تک محدود رہتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ دونوں تہذیبوں کے مابین جاری مسلسل کشمکش سے بھی ہے۔ اس بحث کی دھول میں آیا صوفیا سے متعلق قدیم تاریخ پس منظر میں چلی جاتی ہے ۔ ٰیہ جوابیہ سوال تو بہت سے لوگ اٹھاتے ہیں کہ مسجد سے پہلے کیا تھا مگر یہ سوالیہ نشان کم ہی لگایا جاتا ہے کہ اگر پہلے اور بعد کی بحث اخلاقی قدر رکھتی ہے تو سوال تو یہ بھی ہے کہ چرچ سے پہلے یہاں کیا تھا؟

شہنشاہ جسٹنین سے پہلے بھی یہ جگہ اسی روئے زمیں پر موجود تھی۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شہنشاہ قسطنطین سے بھی پہلے یہ شہر اور یہ چگہ آباد تھی۔ نہ صرف آباد تھی بلکہ یہاں عبادت خانہ بھی موجود تھا ۔ یہ قدیم یونانی بت پرستوں کا عبادت خانہ تھا۔ اور اسی کی چگہ پر قسطنطین نے 324 عیسویں میں چرچ بنانے کا حکم دیا۔ جب بت پرست روم عیسائی روم میں تبدیل ہوا تو بت پرستوں کے بہت سے عبادت خانے مقدس چرچوں میں تبدیل ہوئے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ نئے چرجوں کی تعمیر میں بت خانوں کی باقیات بڑی تعداد میں استعمال کی گئیں حتی کہ آج کے آیا صوفیا میں بھی بت خانہ کے ستون شامل ہیں ۔بہرحال قسطنطین کے حکم پر بننے والے اس چرچ کا نام "عظیم چرچ”(Magna Ecclesia) رکھا گیا ۔

یہ عظیم چرچ تین دفعہ  متحارب عیسائی گروہوں کی ستم گری کا نشانہ بنا۔ پہلی دفعہ 404 عیسویں میں شہنشاہ آرکیڈیس نے اسقف اعظم جان ذھبی (John Chrysostom) کوشہربدر کیا تو شہر میں فسادات پھوٹ پڑے اور "عظیم چرچ” کو جلا دیا گیا۔ اس کے بعد جسٹنین کے دور میں رتھ ریس کے مقابلوں کے دوران فساد شروع ہوگیا ۔بلکہ اسی طرح جیسے آج بھی مغربی دنیا میں فٹ بال مقابلوں میں ہار جیت پر فسادات ہونے لگتے ہیں ۔ بہرحال رتھ ریس کا یہ فساد 532 عیسوی میں اس قدر بڑھا کہ سارا قسطنطنیہ عظیم چرچ سمیت چل گیا ۔ تاریخ اس واقعہ کو نیکا فساد   (Nika Riots)  کے نام سے یاد رکھتی ہے ۔ اسی راکھ پرجسٹنین نے نئی عمارت تعمیر کی اور اسے میگنا اکلیسیا کی بجائے آیا صوفیا کا نام دیا ۔ تاہم پے درپے زلزلوں سے اس عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا ۔ اسے قائم رکھنے کے لیے جسٹنین نے بعلبک اردن سے بت خانوں کے بڑے بڑے ستون منگوائے۔

1204 میں چوتھی صلیبی جنگ کے لیے  وینس سے آنے والے کیتھولک اپنے آرتھوڈاکس ہم مذہبوں پر حملہ آور ہوئے ۔یہ آیا صوفیا کے لیے بالخصوص اور قسطنطنیہ شہر کے لیے بالعموم ایک تاریک دور کا آغاز تھا جس کا اختتام سلطان فاتح کی آمد سے ہی ہوسکا۔  چوتھی صلیبی چنگ نے بازنطینی سلطنت کی بنیادیں تو ہلا ہی دیں آیا صوفیا کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس کے آرٹ و فن کے نمونے اور سونا چاندی کے نقش و نگار اکھاڑ لیے گئے ۔ بعض مورخین کے مطابق گدھوں کی ایک لمبی قطار چرچ میں سونا چاندی ڈھونے کے لیے لائی جاتی۔ ماہرین فن کے مطابق اس وقت آیا صوفیا سے لوٹے گئے بہت سے فن پارے سینٹ مارک چرچ وینس میں اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔

اگرچہ ساٹھ سال بعد آرتھوڈاکس نے کیتھو لکس سے یہ قبضہ چھڑا لیا، مگر پے درپے لڑائیوں اور سازشوں کے نتیجہ میں بازنطین سلطنت بہت کمزور ہوگئی ۔ اس کی مالی و فنی حالت اس قابل نہ رہی کہ وہ آیا صوفیا جیسے عظیم ورثہ کی حفاظت کرسکتی ۔ چنانچہ جان ہفتم نے سلطان مراد سے درخواست کی کہ آیا صوفیا کہ بحالی میں انکی مدد کی جائے۔ کسی درجہ یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ آیا صوفیا کا ذکر  آج صرف کتابوں میں ملتا اگر سلطان مراد دوئم قیصر کی درخواست پر اپنے ماہر تعمیرات علی نجار کو اس عمارت کی بحالی کے لیے نہ بھیجتا۔ مطلب ترکوں نے فتح قسطنطنیہ سے پہلے بھی اس ورثہ کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی اور آج بھی وہ محفوظ و مامون ہے۔ غیر متعصب مورخ عموماً اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ آیا صوفیا کی عظمت اور اسکے قائم رہنے میں عثمانیوں کا بڑا ہاتھ ہے ۔ ان کے پیش رو یونانیوں اور رومیوں نے اپنے سے پہلے لوگوں کی عبادت گاہوں کو تباہ کر دیا ۔ جبکہ عثمانیوں  نے اپنے پیش روٗں کے برعکس اس کو گرانے کی بجائے اسے اپنے لیے عزت کا مقام بنالیا۔

اس لیے مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ یہ چرج تھا تو بھی عظیم اور مسجد ہے تو بھی مقدس ہے۔ آیا صوفیا انسانی تہذیب اور تاریخ کی ایک شاندار کہانی ہے ۔ ایک ایسی کہانی جس میں اتار اور چڑھاوٗ بھی ہے غم اور خوشی بھی ہے۔ کبھی یہ اپنوں کے ستم کا شکار ہوا تو کبھی غیروں کی عنایات اس کے نصیب میں آئیں۔ کبھی کسی پوپ نے اس پر مہمات چڑھائیں تو کبھی کسی سلطان نے اس کی تعمیر میں مدد کی ۔  اسے دو تہذیوبوں کی کشمکش کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی بجائے تہذیب انسانی کے تسلسل کے استعارے کے طورپر دیکھا جانا چاہیے۔

پچھلا پڑھیں

رسول اکرم ﷺکی توہین کرنے والے ممالک دوبارہ صلیبی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں، صدر ایردوان

اگلا پڑھیں

مضبوط پاکستانی معیشت، مضبوط نیا اسلامی بلاک

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے