موٹاپے کے شکار افراد کے لیے کورونا وائرس زیادہ خطرناک

ایک حالیہ تحقیق  کے مطابق کورونا وائرس کی ویکسین موٹاپے کے شکار افراد  پر مو ثر انداز میں اثرانداز نہیں ہو گی  جن کی وبا سے اموات کی شرح بھی  48 فیصد زیادہ ہے۔

عالمی بینک نے چیل ہل کی   یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کو امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور اٹلی سمیت متعدد ممالک کے اعدادوشمار کا تجزیہ کرنے کا کہا۔ جس کے نتائج کے مطابق موٹاپے کے شکار افراد وائرس میں مبتلا ہونے پر  113 فیصد  ہسپتال داخل  ہوتے ہیں جبکہ 74 فیصد انتہائی نگہداشت میں منتقل کیے جاتے ہیں اور 48 فیصد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

یواین سی کے پروفیسر اور تحقیق کے سربراہ بیری پوپکن نے برطانوی اخبار "دی گارڈین” کو  بتایا کہ  یہ بنیادی طور پر  50  فیصد کا اضافہ ہے جو کہ خطرناک ہے ۔ یہ تعداد میری سوچ سے کئی زیادہ ہے ۔

ہم جانتے ہیں  کہ کورونا کی  ویکسین موٹے لوگوں پر کچھ  مثبت اثر ڈالے گی لیکن  سارس ویکسین اور فلو ویکسین پر تجربے کرنے کے بعد ہمارے علم کے مطا بق  دوسروں کے مقابلے میں موٹاپے کے شکار افراد اس سے قدرے کم فائدہ اٹھا سکیں گے۔  

موٹاپا دل کی بیماریوں ، ٹائپ 2 ذیابیطس ، انسولین کے خلاف مزاحمت اور سوزش کا سبب بنتا ہے، اور یہ سبھی کورونا وائرس کے خطر ے کو بڑھاتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ، 40 فیصد سے زیادہ امریکی اور  برطانیہ میں27  فیصد نوجوان ماٹاپے کا شکار  ہیں۔ ترکی میں ، صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے۔ 2019 میں ، ترکی میں 7.5 ملین ماٹاپے کا شکار افراد تھے  ، جب کہ 2.4 ملین موٹاپے  کے مریض ہیں۔ علاوہ ازیں  تقریبا 4 میں سے 3 افراد کا وزن مناسب وزن سے  زیادہ ہے۔  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ، ہر سال کم از کم 2.8 ملین افراد موٹاپا جس سے بچا جا سکتا ہے کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے  ہیں۔

پچھلا پڑھیں

کیا آنے والے سال 2020 سے بھی زیادہ تباہ کن ہو ں گے؟

اگلا پڑھیں

ترکی یورپ کے ساتھ مل کر اپنا مستقبل تعمیر کرنا چاہتا ہے، صدر ایردوان

تبصرہ شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے